7 اشعار

صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر

Safa-e-hairat aaina hai saman-e-zang aakhir

صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر

«صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخرتغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر

نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کیہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر

خط نوخیز نیل چشم زخم صافیٔ عارضلیا آئینہ نے حرز پر طوطی بچنگ آخر

ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہےہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر

تڑپ کر مر گیا وہ صید بال افشاں کہ مضطر تھاہوا ناسور چشم تعزیت چشم خدنگ آخر

لکھی یاروں کی بد مستی نے میخانے کی پامالیہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر

اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہےنہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر

— مرزا غالب