7 اشعار

سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی

Sarapa rahn-e-ishq-o-naguzir ulfat-e-hasti

سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی

«سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستیعبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھیجو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کاچرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا

نگاۂ چشم حاسد وام لے اے ذوق خود بینیتماشائی ہوں وحدت خانۂ آئینۂ دل کا

شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہےبہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا

سراسر تاختن کو شش جہت یک عرصہ جولاں تھاہوا واماندگی سے رہ رواں کی فرق منزل کا

مجھے راہ سخن میں خوف گم راہی نہیں غالبعصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا

— مرزا غالب