7 اشعار

سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے

Sarghashtagi mein aalam-e-hasti se yaas hai

سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے

«سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے

لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبراب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے

کیجیے بیاں سرور تپ غم کہاں تلکہر مو مرے بدن پہ زبان سپاس ہے

ہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفاہرچند اس کے پاس دل حق شناس ہے

پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔمجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہواتنا بھی اے فلک زدہ کیوں بد حواس ہے

— مرزا غالب