5 اشعار

سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم

Seemab pusht-garmi aaina de hai ham

سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم

«سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہمحیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے

آغوش گل کشودہ براۓ وداع ہےاے عندلیب چل کہ چلے دن بہار کے

یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کےپانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے

بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیںنقش قدم ہیں ہم کف پاۓ نگار کے

ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔلائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے

— مرزا غالب