7 اشعار

شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا

Shab ke wo majlis-furoz-e-khalwat-e-namoos tha

شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا

«شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھارشتۂ ہر شمع خار کسوت فانوس تھا

مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حناکس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا

حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزودل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا

کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاںجو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا

بت پرستی ہے بہار نقش بند یہائے دہرہر صریر خامہ میں یک نالۂ ناقوس تھا

طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیایہ دل وابستہ گویا بیضۂ طاؤس تھا

کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میںدست برسر سر بزانوئے دل مایوس تھا

— مرزا غالب