11 اشعار

شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے

Shabnam ba-gul-e-lala na khali ze ada hai

شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے

«شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہےداغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے

دل خوں شدۂ کشمکش حسرت دیدارآئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے

شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کیجی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے

تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوقآئینہ بہ انداز گل آغوش کشا ہے

قمری کف خاکستر و بلبل قفس رنگاے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے

خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کومعشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے

مجبوری و دعواۓ گرفتاری الفتدست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے

معلوم ہوا حال شہیدان گزشتہتیغ ستم آئینۂ تصویر نما ہے

اے پرتو خورشید جہاں تاب ادھر بھیسائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے دادیا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

بیگانگی خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔکوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے

— مرزا غالب