16 اشعار

سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر

Siyahi jaise gir jaye dam-e-tahreer kaghaz par

سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر

«سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پرمری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاۓ ہجراں کی

کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کیکہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی

ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھیسیاہی ہے مرے ایام میں لوح دبستاں کی

دریغ آہ سحر گہ کار باد صبح کرتی ہےکہ ہوتی ہے زیادہ سرد مہری شمع رویاں کی

مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھیولیکن کیا کروں آوے جو رسوائی گریباں کی

ہنر پیدا کیا ہے میں نے حیرت آزمائی میںکہ جوہر آئنے کا ہر پلک ہے چشم حیراں کی

خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہےکہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی

ہوا شرم تہی دستی سے سے وہ بھی سرنگوں آخربس اے زخم جگر اب دیکھ لے شورش نمکداں کی

بیاد گرمیٔ صحبت بہ رنگ شعلہ دہکے ہےچھپاؤں کیونکہ غالبؔ سوزشیں داغ نمایاں کی

جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کینمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی

کشاکش‌ ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادیہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی

نہ کھینچ اے سعیٔ دست نارسا زلف تمنا کوپریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانی کی

کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہےنہ کھینچے طاقت خمیازہ تہمت ناتوانی کی

تکلف برطرف فرہاد اور اتنی سبکدستیخیال آساں تھا لیکن خواب خسرو نے گرانی کی

پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہےشرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی

اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج ہستی نےفقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی

— مرزا غالب