7 اشعار

تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا

Tu dost kisoo ka bhi sitam-gar na hua tha

تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا

«تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

چھوڑا مہ نخشب کی طرح دست قضا نےخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سےآنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالممیں معتقد فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

میں سادہ دل آرزدگئ یار سے خوش ہوںیعنی سبق شوق مکرر نہ ہوا تھا

دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشکمیرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

جاری تھی اسدؔ داغ جگر سے مری تحصیلآتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا

— مرزا غالب