7 اشعار

تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

Tum jaano tum ko ghair se jo rasm-o-raah ho

تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

«تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

بچتے نہیں مواخذۂ روز حشر سےقاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو

کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو

ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تارمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قیدمسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درستلیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو

غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیںدنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو

— مرزا غالب