8 اشعار

ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا

Zikr us pari-wash ka aur phir bayan apna

ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا

«ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا

مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا ربآج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا

منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے ادھر ہوتا کاش کے مکاں اپنا

دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گےبارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا

درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوںانگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا

گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلاننگ سجدہ سے میرے سنگ آستاں اپنا

تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کودوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا

ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا

— مرزا غالب