9 اشعار

ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں

Zikr mera ba badi bhi use manzoor nahin

ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں

«ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں

وعدۂ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوقمژدۂ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں

شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالملوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکنہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں

حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہیعشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں

میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیںکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں

ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہوتو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں

صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگوائے وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں

ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔمیرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں

— مرزا غالب