11 اشعار

دیکھ لو شوق نا تمام مرا

Dekh lo shauq-e-na-tamam mira

دیکھ لو شوق نا تمام مرا

«دیکھ لو شوق نا تمام مرا» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

دیکھ لو شوق نا تمام مراغیر لے جائے ہے پیام مرا

بے اثر ہے فغان خون آلودکیوں نہ ہوئے خراب کام مرا

آتشیں خو سے آرزوئے وصالپک گیا اب خیال خام مرا

دیکھنا کثرت بلا نوشیکاسۂ آسماں ہے جام مرا

رتبہ افتادگی کا دیکھو ہےعرش کے بھی پرے مقام مرا

کس صنم کو چھڑا دیا واعظلے خدا تجھ سے انتقام مرا

ہو کے یوسف جو دل چراتے ہوکون ہو جائے گا غلام مرا

اس لب لعل کی شکایت ہےکیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا

تو نے رسوا کیا مجھے اب تککوئی بھی جانتا تھا نام مرا

زانوئے بت پہ جان دی دیکھامومنؔ انجام و اختتام مرا

بندگی کام آ رہی آخرمیں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا

— مومن خان مومن