7 اشعار

دکھاتے آئینہ ہو اور مجھ میں جان نہیں

Dikhaate aaina ho aur mujh mein jaan nahin

دکھاتے آئینہ ہو اور مجھ میں جان نہیں

«دکھاتے آئینہ ہو اور مجھ میں جان نہیں» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن» میں 28 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دکھاتے آئینہ ہو اور مجھ میں جان نہیںکہو گے پھر بھی کہ میں تجھ سا بد گمان نہیں

ترے فراق میں آرام ایک آن ہیںیہ ہم سمجھ چکے گر تو نہیں تو جان نہیں

نہ پوچھو کچھ مرا احوال مری جاں مجھ سےیہ دیکھ لو کہ مجھے طاقت بیان نہیں

یہ گل ہیں داغ جگر کے انہیںں سمجھ کر چھیڑیہ باغ سینہ عاشک گلستان نہیں

شب فراق میں پہنچی نہ دل سے جان تلککہیں اجل بھی تو مجھ سی ہی ناتوان نہیں

وہ حال پوچھے ہے میں چشم سرمگیں کو دیکھیہ چپ ہوا ہوں کہ گویا مری زبان نہیں

نکل کے دیر سے مسجد میں جا رہ اے مومنخدا کا گھر تو ہے تیرے اگر مکان نہیں​

— مومن خان مومن

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں