10 اشعار

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

hum rang-e-laghari se hon gul ki shamim ka

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

«ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کاطوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

چھوڑا نہ کچھ بھی سینے میں طغیان اشک نےاپنی ہی فوج ہو گئی لشکر غنیم کا

یاران نو کے واسطے مجھ سے خفا ہوئےتم کو نہیں ہے پاس نیاز قدیم کا

یاد آئی کافروں کو مری آہ سرد کیکیونکہ نہ کانپنے لگے شعلہ جحیم کا

از بس کہ ثبت نامہ ہے سوز تپ دروںقاصد کا ہاتھ ہے ید بیضا کلیم کا

واعظ کبھی ہلا نہیں کوئے صنم سے میںکیا جانوں کیا ہے مرتبہ عرش عظیم کا

مارا ہے وصل غیر کے شکوے پہ چاہیئےمدفن جدا جدا مری لاش دو نیم کا

کہتا ہے بات بات پہ کیوں جان کھا گئےگویا کہ پک گیا ہے کلیجہ ندیم کا

واعظ بتوں کو خلد میں لے جائیں گے کہیںہے وعدہ کافروں سے عذاب الیم کا

مومنؔ تجھے تو وہب ہے مومن ہی وہ نہیںجو معتقد نہیں تری طبع سلیم کا

— مومن خان مومن