12 اشعار

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

Hum samajhte hain aazmane ko

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

«ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کوعذر کچھ چاہیئے ستانے کو

سنگ در سے ترے نکالی آگہم نے دشمن کا گھر جلانے کو

صبح عشرت ہے وہ نہ شام وصالہائے کیا ہو گیا زمانے کو

بوالہوس روئے میرے گریہ پہ ابمنہ کہاں تیرے مسکرانے کو

برق کا آسمان پر ہے دماغپھونک کر میرے آشیانے کو

سنگ سودا جنوں میں لیتے ہیںاپنا ہم مقبرہ بنانے کو

شکوہ ہے غیر کی کدورت کاسو مرے خاک میں ملانے کو

روز محشر بھی ہوش گر آیاجائیں گے ہم شراب خانے کو

سن کے وصف اس پہ مر گیا ہمدمخوب آیا تھا غم اٹھانے کو

کوئی دن ہم جہاں میں بیٹھے ہیںآسماں کے ستم اٹھانے کو

چل کے کعبہ میں سجدہ کر مومنؔچھوڑ اس بت کے آستانے کو

نقش پائے رقیب کی محرابنہیں زیبندہ سر جھکانے کو

— مومن خان مومن