9 اشعار

مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ

Momin! Khuda ke waste aisa makaan na chhod

مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ

«مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑدوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ

عاشق تو جانتے ہیں وہ اے دل یہی سہیہر چند بے اثر ہے پر آہ و فغاں نہ چھوڑ

اس طبع نازنیں کو کہاں تاب انفعالجاسوس میرے واسطے اے بد گماں نہ چھوڑ

ناچار دیں گے اور کسی خوب رو کو دلاچھا تو اپنی خوئے بد اے بد زباں نہ چھوڑ

زخمی کیا عدو کو تو مرنا محال ہےقربان جاؤں تیرے مجھے نیم جاں نہ چھوڑ

کچھ کچھ درست ضد سے تری ہو چلے ہیں وہیک چند اور کج روی اے آسماں نہ چھوڑ

جس کوچہ میں گزار صبا کا نہ ہو سکےاے عندلیب اس کے لیے گلستاں نہ چھوڑ

گر پھر بھی اشک آئیں تو جانوں کہ عشق ہےحقہ کا منہ سے غیر کی جانب دھواں نہ چھوڑ

ہوتا ہے اس جحیم میں حاصل وصال جورمومنؔ عجب بہشت ہے دیر مغاں نہ چھوڑ

— مومن خان مومن