14 اشعار

صبر وحشت اثر نہ ہو جائے

Sabr wahshat asar na ho jaye

صبر وحشت اثر نہ ہو جائے

«صبر وحشت اثر نہ ہو جائے» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

صبر وحشت اثر نہ ہو جائےکہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے

رشک پیغام ہے عناں کش دلنامہ بر راہبر نہ ہو جائے

دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہغش تمہیں دیکھ کر نہ ہو جائے

ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیںزندگی پردۂ در نہ ہو جائے

کثرت سجدہ سے وہ نقش قدمکہیں پامال سر نہ ہو جائے

میرے تغییر رنگ کو مت دیکھتجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے

میرے آنسو نہ پونچھنا دیکھوکہیں دامان تر نہ ہو جائے

بات ناصح سے کرتے ڈرتا ہوںکہ فغاں بے اثر نہ ہو جائے

اے قیامت نہ آئیو جب تکوہ مری گور پر نہ ہو جائے

مانع ظلم ہے تغافل یاربخت بد کو خبر نہ ہو جائے

غیر سے بے حجاب ملتے ہوشب عاشق سحر نہ ہو جائے

رشک دشمن کا فائدہ معلوممفت جی کا ضرر نہ ہو جائے

اے دل آہستہ آہ تاب شکندیکھ ٹکڑے جگر نہ ہو جائے

مومنؔ ایماں قبول دل سے مجھےوہ بت آزردہ گر نہ ہو جائے

— مومن خان مومن