نظم 9 اشعار

عرابچی سو گیا ہے

Araabchi So Gaya Hai

عرابچی سو گیا ہےطولانی فاصلوں کی

تھکن سے مغلوب ہو گیا ہےخبر نہیں ہے اسے کہاں ہے

بس ایک لمبے کٹے پھٹےناتراش رستے پہ چوبی گاڑی

ازل سے یوں ہیابد کی جانب رواں دواں ہے

ذرا سے جھٹکے سےچرچراتی ہے جب

تو بوسیدگی کی لاکھوں تہوں میں لپٹاہر ایک ذی روح چونکتا ہے

عرابچی خواب دیکھتا ہےوہ شاہ زادی کا ہاتھ تھامے

سنہری رتھ میں سوار ہو کرعجب جہانوں میں شبہ زمانوں میں

کھو گیا ہےعرابچی سو گیا ہے.....!

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں