غزل 8 اشعار

بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پر

Bah raha hai zamin ke dhare par

بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پرایک دریا کہ ہے کنارے پر

جو تناور تھا سب درختوں میںٹکڑے ٹکڑے پڑا ہے آرے پر

پاؤں لٹکا کے جانبِ دنیاآؤ بیٹھیں کسی ستارے پر

آگے جانے کی سب کو جلدی ہےکوئی رکتا نہیں اشارے پر

عشق میں فائدہ نہیں ہوتاکام چلتا ہے یہ خسارے پر

جھیل میں روشنی سی پھیل گئیپاؤں رکھا ہی تھا شکارے پر

اچھا لگتا ہے بھیگنا مجھ کوآؤ چلتے ہیں آبشارے پر

مر چکی ہیں علامتیں ناصرنزع طاری ہے استعارے پر

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں