غزل 7 اشعار

ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا

Hai Tayaqqun Mein Bhi Ziyan Ulta

ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹاہونے لگتا ہے ہر گماں اُلٹا

کھینچتی ہے ہوا کنارے کوپھڑپھڑاتا ہے بادباں اُلٹا

کیا خبر کیا ہے دوسری جانبکس نے دیکھا ہے آسماں اُلٹا

جانے کس رخ سے آنچ آئے گیآگ سیدھی ہے اور دھواں اُلٹا

ایک سایہ سا پاؤں سے لپٹاساتھ چلتا ہے رائگاں اُلٹا

کون اُس کو تلاش کرتا پھرےجس نے چھوڑا ہے ہر نشاں اُلٹا

میں ریاضت میں محو تھا ناصراُس نے برگد کو ناگہاں اُلٹا

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں