غزل 7 اشعار

لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملی

Lamhay Shumarne Se Rehai Mujhe Mili

لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملیجب سے ترے بدن کی اکائی مجھے ملی

میں جا رہا تھا اپنے خیالوں میں گم کہیںرستے میں اونگھتی ہوئی کھائی مجھے ملی

سب لوگ سو چکے تھے دریچے بھی وا نہ تھےجب شہر نارسا میں رسائی مجھے ملی

باتوں سے اختلاف کی صورت بگڑ گئیاس کو ملا پہاڑ نہ رائی مجھے ملی

ہر لمحہ جی رہا ہوں کسی اور کے لیےلگتا ہے زندگی بھی پرائی مجھے ملی

نکلا تو لازماں کی حدیں پار کر گیابیٹھا تو خاکداں کی چٹائی مجھے ملی

گہرے سمندروں کا سفر جب ہُوا تمامیادوں کے دشت، دکھ کی ترائی مجھے ملی

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں