نظم 6 اشعار

گنبدوں کے درمیاں

Gumbadon Ke Darmiyan

خواہشیں دیوار گریہ پر خوشی کے گیت ہیںراستے اچھے دنوں کے خواب ہیں

لیکن ہمیشہ منزلوں سے دور رہتے ہیںلکیریں دائروں میں قید ہیں

چلتے رہو!ریگزاروں کے سفر کا انت پانی ہے

سرابوں کے تعاقب میں کبھی نکلوتو آنکھوں کے سمندر ساتھ رکھنا

کانچ خاموشی کے جنگل سے کبھی گزروتو آوازوں کے پتھر ساتھ رکھنا!

گنبدوں کے درمیاں رہتے ہوئےدر ساتھ رکھنا!!

— نصیر احمد ناصر