نظم 10 اشعار

تاریخ ٹسوے بہائے گی

Tareekh Tasway Bahaye Gi

تم سر بام آ کراٹھایا ہوا ہاتھ اپنا ہلا کر

چمک دار آنکھوں سے اپنیمجھے رخصتی کا اگر اذن دیتیں

تو میں دشمنوں کے لیےموت بن کر نکلتا

تمہارے فقط اک اشارے سےکشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتا

تم دیکھتیں کس طرح میںزمانے کی سرحد ذرا دیر میں پار کرتا

ہر اک سمت سے وار کرتامحبت کی تاریخ تبدیل کرتا

نئی رزم بوطیقا تشکیل دیتامیں لشکر کا سب سے بہادر سپاہی تھا

میرے لیے ایک آنسو بہت تھامگر تم نے اشکوں کی برسات کر کے

مجھے اس قدر غم زدہ کر دیا ہےکہ لگتا ہے یہ معرکہ ہار جاؤں گا میں

لوٹ کر اب نہ آؤں گا میں.....!

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں