نظم 8 اشعار

ایک ساحلی دن

Ek Saahili Din

سمندر بے کرانی کا انوکھا سلسلہ ہےآسماں بھی اپنے نیلے پن سے اکتایا ہوا ہے

پانیوں پر چلتے چلتےنم ہوا کے پاؤں بھی شل ہو چکے ہیں

بادباں سونے لگے ہیںساحلوں پر

آفتابی غسل کرتی لڑکیاں بھیلوٹ کر اپنے گھروں کو جا چکی ہیں

ریت پر پھیلے ہوئے ہیںان کے قدموں کے نشاں

جسموں کی ننگی باسمشروبات کے بے کار ٹن

تصویر میں اوندھا پڑا ہےزندگی کی شام میں بھیگا ہوا

اک دن!

— نصیر احمد ناصر