6 اشعار

مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کے

Misl-e-sahra hai rafaqat ka chaman bhi ab ke

مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کے

«مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کے» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کےجل بجھا اپنے ہی شعلوں میں بدن بھی اب کے

خار و خس ہوں تو شرر خیزیاں دیکھوں پھر سےآنکھ لے آئی ہے اک ایسی کرن بھی اب کے

ہم تو وہ پھول جو شاخوں پہ یہ سوچیں پہروںکیوں صبا بھول گئی اپنا چلن بھی اب کے

منزلوں تک نظر آتا ہے شکستوں کا غبارساتھ دیتی نہیں ایسے میں تھکن بھی اب کے

منسلک ایک ہی رشتے میں نہ ہو جائے کہیںترے ماتھے ترے بستر کی شکن بھی اب کے

بے گناہی کے لبادے کو اتارو بھی نصیرؔراس آ جائے اگر جرم سخن بھی اب کے

— نصیر ترابی