9 اشعار

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا

Rache base hue lamhon se jab hisaab hua

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا

«رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہواگئے دنوں کی رتوں کا زیاں ثواب ہوا

گزر گیا تو پس موج بے کناری تھیٹھہر گیا تو وہ دریا مجھے سراب ہوا

سپردگی کے تقاضے کہاں کہاں سے پڑھوںہنر کے باب میں پیکر ترا کتاب ہوا

ہر آرزو مری آنکھوں کی روشنی ٹھہریچراغ سوچ میں گم ہیں یہ کیا عذاب ہوا

کچھ اجنبی سے لگے آشنا دریچے بھیکرن کرن جو اجالوں کا احتساب ہوا

وہ یخ مزاج رہا فاصلوں کے رشتوں سےمگر گلے سے لگایا تو آب آب ہوا

وہ پیڑ جس کے تلے روح گنگناتی تھیاسی کی چھاؤں سے اب مجھ کو اجتناب ہوا

ان آندھیوں میں کسے مہلت قیام یہاںکہ ایک خیمۂ جاں تھا سو بے طناب ہوا

صلیب سنگ ہو یا پیرہن کے رنگ نصیرؔہمارے نام سے کیا کیا نہ انتساب ہوا

— نصیر ترابی