6 اشعار

سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تو

Sukoot-e-sham se ghabra na jaye aakhir tu

سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تو

«سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تو» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تومرے دیار سے گزری جو اے کرن پھر تو

لباس جاں میں نہیں شعلگی کا رنگ مگرجھلس رہا ہے مرے ساتھ کیوں بظاہر تو

وفائے وعدہ و پیماں کا اعتبار بھی کیاکہ میں تو صاحب ایماں ہوں اور منکر تو

مرے وجود میں اک بے زباں سمندر ہےاتر کے دیکھ سفینے سے میری خاطر تو

میں شاخ سبز نہیں محرم صبا بھی نہیںمرے فریب میں کیوں آ گیا ہے طائر تو

اسی امید پہ جلتے ہیں راستوں میں چراغکبھی تو لوٹ کے آئے گا اے مسافر تو

— نصیر ترابی