7 اشعار

صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا

Saba ka narm sa jhonka bhi taaziyana hua

صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا

«صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوایہ وار مجھ پہ ہوا بھی تو غائبانہ ہوا

اسی نے مجھ پہ اٹھائے ہیں سنگ جس کے لیےمیں پاش پاش ہوا گھر نگار خانہ ہوا

جھلس رہا تھا بدن گرمئ نفس سے مگرترے خیال کا خورشید شامیانہ ہوا

خود اپنے ہجر کی خواہش مجھے عزیز رہییہ تیرے وصل کا قصہ تو اک بہانہ ہوا

خدا کی سرد مزاجی سما گئی مجھ میںمری تلاش کا سودا پیمبرانہ ہوا

میں اک شجر کی طرح رہگزر میں ٹھہرا ہوںتھکن اتار کے تو کس طرف روانہ ہوا

وہ شخص جس کے لیے شعر کہہ رہا ہوں نصیرؔغزل سنائے ہوئے اس کو اک زمانہ ہوا

— نصیر ترابی