9 اشعار

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے

Tujhe kya khabar mere be-khabar mera silsila koi aur hai

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے

«تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہےجو مجھی کو مجھ سے بہم کرے وہ گریز پا کوئی اور ہے

مرے موسموں کے بھی طور تھے مرے برگ و بار ہی اور تھےمگر اب روش ہے الگ کوئی مگر اب ہوا کوئی اور ہے

یہی شہر شہر قرار ہے تو دل شکستہ کی خیر ہومری آس ہے کسی اور سے مجھے پوچھتا کوئی اور ہے

یہ وہ ماجرائے فراق ہے جو محبتوں سے نہ کھل سکاکہ محبتوں ہی کے درمیاں سبب جفا کوئی اور ہے

ہیں محبتوں کی امانتیں یہی ہجرتیں یہی قربتیںدیے بام و در کسی اور نے تو رہا بسا کوئی اور ہے

یہ فضا کے رنگ کھلے کھلے اسی پیش و پس کے ہیں سلسلےابھی خوش نوا کوئی اور تھا ابھی پر کشا کوئی اور ہے

دل زود رنج نہ کر گلہ کسی گرم و سرد رقیب کارخ ناسزا تو ہے روبرو پس ناسزا کوئی اور ہے

بہت آئے ہمدم و چارہ گر جو نمود و نام کے ہو گئےجو زوال غم کا بھی غم کرے وہ خوش آشنا کوئی اور ہے

یہ نصیرؔ شام سپردگی کی اداس اداس سی روشنیبہ کنار گل ذرا دیکھنا یہ تمہی ہو یا کوئی اور ہے

— نصیر ترابی