7 اشعار

خود تماشہ ہے خود تماشائی

Khud tamasha hai khud tamashai

خود تماشہ ہے خود تماشائیحسن اپنا ہے آپ شیدائی

شوق نے پھر لگائی دل میں آگمژدہ اے زندگی بہار آئی

ہم کہاں اور کہاں تری محفلہے محبت کی کار فرمائی

اک تمنا تھی ان سے ملنے کیعمر گزری مگر نہ بر آئی

عشق کی عظمتوں سے ناواقفکر رہے ہیں ابھی جبیں سائی

اب کہاں جائیں کون پوچھے گاتیرے دیوانے تیرے سودائی

ایک ناشادؔ کیا کہ عالم ہےتیرا دیوانہ تیرا سودائی

— ناشاد کانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں