16 اشعار

جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا

Jise pehlu mein reh kar dard hasil ho nahin sakta

جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا

«جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 56 سیکنڈ ہے۔

جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتااُسے دل کون کہہ سکتا ہے، وہ دل ہو نہیں سکتا

وہ بندہ ، جس کو عرفاں اپنا حاصل ہو نہیں سکتاکبھی خاصانِ حق کی صف میں شامل ہو نہیں سکتا

زمیں و آسماں کا فرق ہے دونوں کی فطرت میںکوئی ذرّہ چمک کر ماہِ کامل ہو نہیں سکتا

محبت میں تو بس دیوانگی ہی کام آتی ہےیہاں جو عقل دوڑائے، وہ عاقل ہو نہیں سکتا

پہنچتے ہیں، پہنچنے والے اُس کوچے میں مر مر کرکوئی جنّت میں قبل از مرگ داخل ہو نہیں سکتا

نہیں جب اذنِ سجدہ ہی تو یہ تسلیم کیونکر ہومرا سر تیرے سنگ ِدر کے قابل ہو نہیں سکتا

مرا دل اور تم کو بھول جائے ، غیر ممکن ہےتمہاری یاد سے دم بھر یہ غافل ہو نہیں سکتا

مرا ایمان ہے اُن پر ، مجھے اُن سے محبت ہےمرا جذبہ ، مرا ایمان ، باطل ہو نہیں سکتا

نزاکت کے سبب خنجر اُٹھانا بار ہو جس کووہ قاتل بن نہیں سکتا، وہ قاتل ہو نہیں سکتا

اُڑائے دھول کوئی چاند پر کب دھول پڑتی ہےکسی کے کہنے سے ذی علم جاہل ہو نہیں سکتا

مرے داغِ تمنّا کا ذرا سا عکس ہے ، شایدکسی کے عارضِ دلکش پہ یہ تِل ہو نہیں سکتا

نہ ہو وارفتہ جو اُس جانِ خوبی پر دل و جاں سےوہ عاشق بن نہیں سکتا ، وہ بسمل ہو نہیں سکتا

ہمیں منظور مر جانا ، اگر اُن کا اِشارہ ہویہ کام آسان ہو سکتا ہے، مشکل ہو نہیں سکتا

جو رونق آج ہے ، وہ آج ہے ، کل ہو نہیں سکتیہمارے بعد پھر یہ رنگِ محفل ہو نہیں سکتا

مراحل کچھ بھی ہوں ہر دم سفر سے کام ہے اس کومسافر بے نیازِ راہ منزل ہو نہیں سکتا

نصیر اب کھیلنا ہے بحرِ غم کے تیز دھارے سےسفینہ زیست کا ممنونِ ساحل ہو نہیں سکتا

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں