7 اشعار

غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں

Gham-e-hijran ki tere paas dawa hai ke nahin

غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں

«غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیںجاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں

وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیںجھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں

مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیایہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں

سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرناکیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں

اہل دل نے اُسے ڈُھونڈا ، اُسے محسوس کیاسوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں

تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئےمیں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟

آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیرسوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں