12 اشعار

نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے

Na woh ihtimam-e-mai-e-kuhan, na woh maikade ka nizaam hai

نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے

«نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہےنہ وہ رند ہیں ، نہ وہ ہاو ہوَ نہ وہ دور ہے ، نہ وہ جام ہے

وہ ہے خوش نصیب جسے ملے ، مئے معرفت کا یہ جام ہےجو وہ خود پلائیں حلال ہے ، نہ پلائیں وہ ، تو حرام ہے

زرا دیکھ اپنے مریض کو کہ ہر اس کی سانس میں آج بھیترے انتظار کی ہے کسک، تری یاد ہے ، ترا نام ہے

کہوں کس سے قصہ ء شوق میں، نہ وہ ہمنوا ، نہ وہ ہم زباںنہ وہ ہمسفر ، نہ وہ کارواں، نہ وہ صبح ہے نہ وہ شام ہے

چلی ایسی بادِ خزاں اثر ، کہ ہوں دامِ غم میں شکستہ پرنہ بتوں کی دل میں ہے آرزو، نہ وہ شوقِ جلوہ ء بام ہے

وہ نیاز و ناز کی محفلیں، نہ وہ چاند ہے نہ و ہ چاندنینہ وہ رات ہے ، نہ وہ بات ہے ، نہ و ہ حسنِ ماہ تمام ہے

نہ فراقِ یار کے مشغلے ، نہ وہ بزمِ شوق کے ولولےنہ وہ سوزِ سینہ گداز ہے ، نہ وہ آہِ برق خرام ہے

یہ عجیب دور ہے رونما کی ادب کا پاس نہیں رہانہ وہ اہل ِ درد کی حرمتیں ، نہ وہ احترام ِ مقام ہے

کہوں میں بھلا ، وہ براکہیں، کہوں میں وفا ، وہ جفا کریںانہیں اپنے کام سے ہے غرض، مجھے اپنے کام سے کام ہے

وہ ہزار کوئی جتن کرے ، ترے دسترس سے نہ بچ سکےتری زلف حلقہ بدوش ہے ، تری آنکھ بادہ بہ جام ہے

ترے سنگِ در پہ جو ہو ادا ، وہی ایک سجدہ ہے کام کایہی اک نماز ہے عشق کی جو بغیر شرطِ امام ہے

میں نصیر فقر سرشت ہوں ، کہ مرید ِ ساقی ِ چشت ہوںمجھے بادشاہوں سے کام کیا، انہیں دور ہی سے سلام ہے !!!

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں