10 اشعار

ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے

Hans diye chaman mein gul, kis liye Khuda jaane

ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے

«ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانےکیا کہا بہاروں نے ، بات یہ صبا جانے

وہ ہمیں الگ سمجھے ، وہ ہمیں جدا جانےہم جنہیں زمانے میں، اپنا آشنا جانے

اک چھُپی شئے کی، اصل کوئی کیا جانےدردِ دل کا قصہ ہے ، کون دوسرا جانے

ہم تو آپ پر صدقے ، آپ ہم سے بیگانہابتدا میں یہ عالم ، انتہا خدا جانے

میں تو ہوش کھو بیٹھا، دیکھ کر دمِ زینتآئینے پہ کیا گزری، اس کو آئینا جانے

ہم نے ان سے جب پوچھا ، کیا ہوا ہمارا دلہنس کے چپ رہے پہلے ، پھر کہا، خدا جانے

تیرے در کے ٹکڑوں نے ، جس گدا کو پالا ہووہ کسی کو کیا سمجھے ، وہ کسی کو کیا جانے

آپ کیوں ہوئے مضطر ، آپ کیوں پریشاں ہیںہم پہ جو گزرتی ہے ، آپ کی بلا جانے

خلق کی نگاہوں میں ، میں برا سہی لیکنآپ کیوں برا سمجھے ، آپ کیوں برا جانے

یہ شرف نصیر اس کی بارگہ میں کیا کم ہےوہ تری دعا سن لے ، تیرا مدعا جانے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں