10 اشعار

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے

Manzar faza-e-dahr mein saara Ali ka hai

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے

«منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے» پیر نصیرالدین کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «آج مے خانے میں نیت میری بھر جانے دے پیر نصیر الدین نصیر» میں 8 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہےجس سمت دیکھتا ہوں نظارہ علی کا ہے

مرحب دو نیم ہے سر خیبر پڑا ہوااٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے

کُل کا جمال جزو کے چہرے سے ہے عیاںگھوڑے پہ ہیں حسین نظارہ علی کا ہے

اصحابی کالنجوم کا ارشاد بھی بجاسب سے مگر بلند ستارا علی کا ہے

ہم فقر مست چاہنے والے علی کے ہیںدل پر ہمارے صرف اجارا علی کا ہےِ

اہلِ ہوس کی لقمہ تر پر رہی نظرنان جویں پہ صرف گزارا علی کا ہے

تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میںدیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے

اے ارض پاک تجھ کو مبارک کہ تیرے پاسپرچم نبی کا چاند ستارا علی کا ہے

آثار پڑھ کے مہدی دوراں کے یوں لگاجیسے ظہور وہ بھی دوبارہ علی کا ہے

تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بساطتجھ پر کرم نصیر یہ سارا علی کا ہے

— پیر نصیرالدین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں