13 اشعار

کچھ نہیں ہوتا

Kuch Nahi'n Hota

کچھ نہیں ہوتا

«کچھ نہیں ہوتا» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے ویکسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

کچھ نہیں ہوتاکچھ نہیں ہوتا

کوئی نہیں مرتاکچھ بھی نہیں ہوتا

کسی کے روٹھ جانے سےکسی کے نہ منانے سے

کچھ نہیں ہوتاکچھ بھی نہیں ہوتا

بس رہ جاتی ہے ۔۔۔!ایک خلش بے نام سی

ایک بے چینی بے لگام سیایک اداسی اس کے نام کی

اور جلملاہٹ نہ کسی کام کیکچھ سوکھے پھول گلاب کے

اور مڑے ورق کتاب کےکچھ سمے ایک جا ٹھہرے ہوئے

چند جملے کبھی نہ کہے ہوئےکچھ نہیں ہوتا

کچھ بھی نہیں ہوتاکوئی بھی نہیں مرتا

ہاں رہ جاتی ہیں ٹوٹی اینٹیں اجڑے مکان کیاور آسیبوں کے ساتھ محبت کسی بے جان کی

کچھ نہیں ہوتاکوئی نہیں مرتا

کچھ بھی نہیں ہوتا

— راجا اکرام قمر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں