دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیا
کلام: صفی اورنگ آبادی
دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیاکیا بال بال مجھ کو خدا نے بچا لیا
اب اس کو رحم آئے یہ قسمت کے ہاتھ ہےبن جائے بات حال تو ہم نے بنا لیا
رشک رقیب ہو کہ غم دورِحبیب صفی اورنگ آبادی
مہمان شاعر: صفی اورنگ آبادی
دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیاکیا بال بال مجھ کو خدا نے بچا لیا
اب اس کو رحم آئے یہ قسمت کے ہاتھ ہےبن جائے بات حال تو ہم نے بنا لیا
نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتناالٰہی کیا کروں درد جگر اتنا جگر اتنا
بلانے کے طریقے سے بلایا کیجیے ہم کورہے ملحوظ خاطر کم سے کم بار دگر اتنا