غزل 19 اشعار

دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیں

Dost khush hote hain jab dost ka gham dekhte hain

دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیںکیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیں

دیکھتے ہیں جسے بادیدۂ نم دیکھتے ہیںآپ کے دیکھنے والوں کو بھی ہم دیکھتے ہیں

بے محل اب تو ستم گر کے ستم دیکھتے ہیںکیسے کیسوں کو برے حال میں ہم دیکھتے ہیں

ہنس کے تڑپا دے مگر غصے سے صورت نہ بگاڑیہ بھی معلوم ہے ظالم تجھے ہم دیکھتے ہیں

لوگ کیوں کہتے ہیں تو اس کو نہ دیکھ اس کو نہ دیکھہم کو اللہ دکھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں

باغ کی سیر نہ بازار کی تفریح رہیہم تو برسوں میں کسی دن پہ قدم دیکھتے ہیں

لعل ہیرے سہی تیرے لب دنداں ادھر آتوڑ لیتے تو نہیں ہیں انہیں ہم دیکھتے ہیں

شل ہوئے دست طلب بھول گئے حرف سوالآج ہم حوصلۂ اہل کرم دیکھتے ہیں

میں تماشا سہی لیکن یہ تماشا کیسامفت میں لوگ ترے ظلم و ستم دیکھتے ہیں

آپ کی کم نگہی حسن بھی ہے عیب بھی ہےلوگ ایسا بھی سمجھتے ہیں کہ کم دیکھتے ہیں

ہم کو ٹھکراتے چلیں آپ کی محفل میں عدوکیا انہیں کم نظر آتا ہے یا کم دیکھتے ہیں

چار لوگوں کے دکھانے کو تو اخلاق سے ملاور کچھ بھی نہیں دنیا میں بھرم دیکھتے ہیں

میرا ہونا بھی نہ ہونے کے برابر ہے وہاںدیکھیں جو لوگ وجود اور عدم دیکھتے ہیں

آنکھ میں شرم کا پانی مگر اتنا بھی نہ ہودیکھ ان کو جو تری آنکھ کو نم دیکھتے ہیں

ہو تو جائے گا ترے دیکھنے والوں میں شماراول اول ہی مگر اپنے کو ہم دیکھتے ہیں

راستہ چلنے کی اک چھیڑ تھی تو آقا نہ آہم تو یہ قول یہ وعدہ یہ قسم دیکھتے ہیں

دیکھنا جرم ہوا ظلم ہوا قہر ہوایہ نہ دیکھا تجھے کس آنکھ سے ہم دیکھتے ہیں

آنکھ ان کی ہے دل ان کا ہے کلیجہ ان کارات دن جو مجھے بادیدۂ نم دیکھتے ہیں

اپنا رونا بھی صفیؔ راس نہ آیا ہم کواس کو شکوہ ہے کہ آنکھیں تری نم دیکھتے ہیں

— صفی اورنگ آبادی