غزل 7 اشعار

طبیعت بجھ گئی جب سے ترے دیدار کو ترسے

Tabiyat bujh gayi jab se tere deedar ko tarse

طبیعت بجھ گئی جب سے ترے دیدار کو ترسےاگر اب نیند بھی آتی ہے اٹھ جاتے ہیں بستر سے

ہمیں معشوق کو اپنا بنانا تک نہیں آتابنانے والے آئینہ بنا لیتے ہیں پتھر سے

زباں سے آہ نکلی دل سے نالہ آنکھوں سے آنسومگر اک تیری دھن ہے جو نکلتی ہی نہیں سر سے

ارے نادان سچا چاہنے والا نہیں ملتاوو لیلیٰ تھی کہ جس کو مل گیا مجنوں مقدر سے

ملن ساری بھی سیکھو جب نگاہ ناز پائی ہےمری جاں آدمی اخلاق سے تلوار جوہر سے

خدا کی شان مطلب آشنا ایسے بھی ہوتے ہیںبتوں نے بن کے بت سجدہ کرایا پہلے بت گر سے

صفیؔ کو مسکرا کر دیکھ لو غصہ سے کیا حاصلاسے تم زہر کیوں دیتے ہو جو مرتا ہے شکر سے

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں