غزل 13 اشعار

جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیں

Jo husn-o-ishq se aman-o-amaan mein rehte hain

جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیںکہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیں

کلام پاک میں ہے ذکر حضرت یوسفیہ حسن و عشق ہر اک داستاں میں رہتے ہیں

الٰہی اب سے حسینوں کو مہربان بناکہ تیرے بندے انہیں کی اماں میں رہتے ہیں

تمہیں تو ہو وہ جو درد و الم میں رکھتے ہوہمیں تو ہیں وہ جو آہ و فغاں میں رہتے ہیں

مجھے تو آپ سے مطلب ہے چاند سورج کونوہ ان کو چاہیں گے جو آسماں میں رہتے ہیں

کدھر کدھر کے چلے آتے ہیں یہ بے وحدتکہاں کہاں کے تمہارے مکاں میں رہتے ہیں

امید رنج الم ضبط درد صبر قلقیہ سب ہمارے دل ناتواں میں رہتے ہیں

ہزاروں کام ہیں ایسے بھی دیکھ اے غافلکہ بعد مرگ بھی لوگ اس جہاں میں رہتے ہیں

خدا سمجھ لے لگانے بجھانے والوں کویہ خواہ مخواہ یہاں میں وہاں میں رہتے ہیں

اشارے آپ کی ابرو کے کوئی کیا جانےکہ کتنے زہر کے تیر اس کماں میں رہتے ہیں

ہماری خاص ترقی ہے خانہ ویرانیکبھی مکاں میں تھے اب لا مکاں میں رہتے ہیں

اگر سمجھ ہے تو دل دے کے لطف زیست اٹھاہزار فائدے اس اک زیاں میں رہتے ہیں

خیال دوست میں رہتے ہیں اے صفیؔ جب تکتو اس جہاں میں نہ ہم اس جہاں میں رہتے ہیں

— صفی اورنگ آبادی