17 اشعار

ھمارے عہد کے لوگو

Humare Ahd Ke Logo

ھمارے عہد کے لوگو

«ھمارے عہد کے لوگو» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

ھمارے عہد کے لوگوھمارا عہد کیا گزرا

رہا کچھ بھی نہیں ویسانہ ویسی سوچ باقی ھے

نہ ویسے لوگ باقی ھیںکہ رشتے سب وہی موجود ھیں لیکن

محبت کی جگہ اب مادیتمحور ھے رشتوں کا

کہ اس پر ہی تو بنتے ھیںاور اس کے گرد چلتے ھیں

جب ہی تو اس زمانے میںنہ مجنوں ھیں نہ لیلیٰ ھے

نہ سسی تھل میں جلتی ھےنہ پُنوں جان دیتے ھیں

جب ہی تو اس زمانے میںنہ ھو باہو کی ملتی ھے

نہ بُلھا رقص کرتا ھےمگر یہ بھی حقیقت ھے

ازل سے آج تک ایسا ھوا جب بھیمحبت کی قحط سالی میں

رب نے لوگ بھیجے ھیںمحبت بانٹنے والے

جو پھر بنجر زمینوں کوخلوص اور پیار کے زمزم

ہی سیراب کرتے ھیںزمانے پھر بدلتے ھیں

وہی قدریںانہیں بنجر زمینوں سے دوبارہ سر اُٹھاتی ھیں

زمانے کو بتاتی ھیںمحبت ہی تو محور ھے

محبت ہی خدائی ھےمحبت سے تو رشتوں میں

ھُویدا پارسائی ھے۔۔۔۔۔۔

— سجاد رضا