17 اشعار

روزِ حساب

Roz-e-Hisaab

روزِ حساب

«روزِ حساب» سجاد رضا کا کلام ہے، جسے شاعر نے خود سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

کتنے مظلوم گئے دنیا سےروز محشر کے انتظار میں ھیں

اور اس دن خُدا سے بولیں گےبڑے ظالم تھے نام لیوا تیرے

نام پہ تیرے ظُلم کرتے تھےنابلد تھے جو لفظِ غیرت سے

نام ِغیرت قتال کرتے تھےدین اک کاروبار تھا ان کا

صاحب مسند قضاوت بھیعدل کی دھجیاں اُڑاتے تھے

حکمرانوں سے داد پاتے تھےحد تو یہ ھے کہ

مفتی و مُلّانفرتیں بانٹتے تھے لوگوں میں

اپنے فتووں سے مَکر وحیلہ سےکفر و توہین میں پھنساتے

تھےحق پرستوں کے سر کٹاتے تھے

اور اپنی حوس پرستی میںیہ تقدس کو بھول جاتے تھے

درسگاہوں میں اور مساجد میںاپنی ابلیسیت دکھاتے تھے

تو جنھیں حکمراں بناتا تھاوہ بھی کب

تیرا خوف کھاتے تھےان کے فرعون جاگ جاتے تھے

ھم نے آواز تو اُٹھائی تھیھم میں طاقت نہیں تھی لڑنے کی

ھم سے چھینی گئی حیات مگرآج روز حساب ھے یارب

آج سارے حساب ھونے ھیںآج قاضی بھی تو گواہ بھی تو

آج خاموش سبھی قاضی ھیںھم تیرے فیصلوں پہ راضی ھیں

— سجاد رضا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں