13 اشعار

شام کی دعا

Shaam ki Dua

شام کی دعا

«شام کی دعا» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

شام ہوئی اور سورج ڈوبارات نے اپنا خیمہ ڈالا

دھوپ کہاں اب ہے اندھیاراسماں ہے ٹھنڈا پیارا پیارا

دن بھر خوب پڑھے اور کھیلےدیکھے اس دنیا کے میلے

یاد کرو سب دن کی باتیںکیا کیا کام کیے تھے دن میں

کس کو مارا کس کو لوٹالڑنے میں کس کا سر پھوٹا

کام کیا ہے نیک بھی کوئیتم نے دعا لی ایک بھی کوئی

نیک اگر کچھ کام کیا ہےتو سمجھو یہ دن اچھا ہے

مانگو اپنے رب سے دعائیںیا رب سر سے ٹال بلائیں

شام سویرے کا تو مالکاور اندھیرے کا تو مالک

صبح بھی تجھ سے شام بھی تجھ سےہے ان کا انجام بھی تجھ سے

جیسے دن راحت سے گزراگزرے یوں ہی رات بھی مولا

نام ترا میں لے کر جاگوںکھاؤں پیوں اور دوڑوں بھاگوں

کھیلوں کودوں اور پڑھوں میںشاد رہوں آباد رہوں میں

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں