15 اشعار

میری ہولی

Meri Holi

میری ہولی

«میری ہولی» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کاش حاصل ہو حقیقی زندگی کا ایک دنسر خوشی کا ایک لمحہ یا خوشی کا ایک دن

کر دیا ہے شورش عالم نے دیوانہ مجھےہے بساط دہر وحشت ناک ویرانہ مجھے

اک نئی دنیا کی خلقت ہے مری تخئیل میںجو معاون ہو سکے انسان کی تکمیل میں

اہتمام زندگی جس میں بطور خاص ہوآسماں جس کا محبت ہو زمیں اخلاص ہو

کرشن کی آج یاد رفتہ محفل زندہ کروبرج و گوکل کی بجھی شمعوں کو تابندہ کرو

خشکیٔ گنگ و جمن کی آبیاری کے لئےدعوتیں دو گوپیوں کو رنگ باری کے لئے

از سر نو پھر مرتب ہو جہان رنگ و بوخار و خس سے پھر ہو پیدا کارخانے رنگ و بو

پریم رس سے لاؤ بھر کر خوش نما پچکاریاںہوں نئی دامان ہستی پر لطافت باریاں

روح کی آواز ہم آئیں گے ساز و چنگ ہوجو پڑے انساں پہ وہ انسانیت کا رنگ ہو

چاہتا ہوں یوں ہو رنگیں پیرہن اور ساریاںشست و شو سے بھی نہ زائل ہو سکیں گل کاریاں

جسم کی صورت رہے دل بھی مسرت میں شریکروح آزادی بھی ہو جائے حقیقت میں شریک

چاہتا ہوں گلشن کہنہ پر آ جائے شبابتنکا تنکا پھول ہو اور پتا پتا آفتاب

تازگی وجہ شگفت خاطر عالم رہےمیری دنیا میں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے

شاعر و صناع ہو فکر و خلش سے بے نیازخواجہ و مزدور میں باقی نہ ہو کچھ امتیاز

ارتقا کے رنگ سے لبریز جھولی ہو میریانقلاب ایسا کوئی ہو لے تو ہولی ہو میری

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں