26 اشعار

بلبل اور گلاب

Bulbul aur Gulab

بلبل اور گلاب

«بلبل اور گلاب» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

بلبلاے رنگ بھرے گلاب کے پھول

اس شان اس آب و تاب کے پھولدلچسپ بہت ہیں رنگ تیرے

ہیں مجھ کو پسند ڈھنگ تیرےکھلتا ہے جو تو اس انجمن میں

لگتی ہے اک آگ سی چمن میںکیا یہ اثر ہے پنکھڑی میں

کیسی ہے چٹک کلی کلی میںکس نے تجھے اسقدر سجایا

کس نے تجھے باغ میں کھلایاکیوں تجھ میں ہے دل کشی زیادہ

کس ملک کا تو ہے شاہزادہگلاب

اے رنگ بھرے ترانے والیگلشن میں بہار گانے والی

اے باغ کی لا جواب چڑیااے شیفتۂ گلاب چڑیا

جس نے تجھے چہچہے دئے ہیںدلچسپ یہ زمزمے دیے ہیں

اس نے مجھے پھول ہے بنایااک پیڑ کی شاخ سے اگایا

سب پھول ہیں میرے آگے سادہاس باغ کا ہوں میں شاہزادہ

مجھ سا نہیں اور کوئی خوش بختہے میرے لئے بہار کا تخت

بلبلپیارے مرے اے گلاب کے پھول

اے گلشن لا جواب کے پھولرنگین خموش سیدھے سادے

اے ملک چمن کے شاہزادےکرتی ہے بہار جب کنارا

ہو جاتا ہے زرد باغ ساراآتا نہیں کیوں مجھے نظر تو

جاتا ہے چھپا چھپا کدھر تومرجھاتی ہیں تیری ساری کلیاں

رہتی نہیں پھر یہ رنگ رلیاںاڑ جاتی ہے بو حنا کی مانند

ہوتا ہے فنا ہوا کی مانندگلاب

اے مطربۂ بہار بلبلاے عاشق بیقرار بلبل

ہوتا ہوں میں خاک ہی سے پیداآخر کو ہوں خاک ہی میں ملتا

غم خوار بھی غم گسار بھی ہےماں بھی ہے یہی مزار بھی ہے

دنیا میں ہیں جتنے پھول کلیاںہے سب میں بقا فنا نمایاں

مرجھا کے ہر ایک پھول پتاہوتا ہے پھر اس زمیں سے پیدا

ہر پھول میں ہے خدا کی قدرتہر خار میں ہے اسی کی حکمت

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں