35 اشعار

جگنو اور بچہ

Jugnu aur Bachcha

جگنو اور بچہ

«جگنو اور بچہ» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

جگنوادھر آؤ اے میرے نادان بچے

کروں گا میں دو چار باتیں تمہیں سےہو مصروف کیوں کھیلنے میں تم ایسے

سنو تو سہی کچھ پڑھو گھر پہ جا کےنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے

بچہمیں ابا کا جانی میں اماں کا پیارا

نہیں رنج میرا کسی کو گوارانہ جاؤں گا پڑھنے یہ ہے کیا اشارا

میں کھیلوں گا تیرا نہیں کچھ اجاراچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے

جگنویہ پر نور چہرہ یہ آنکھیں منور

یہ گورا بدن اور کپڑے معطرلڑکپن کے دن ہیں مگر یوں نہ ہٹ کر

نصیحت سے میری ہوا کیوں مکدرنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے

بچہپڑی ہے ابھی عمر پڑھ لوں گا جگنو

کہ پڑھنے پہ ہر وقت ہے میرا قابومیں کیوں جاؤں پڑھنے میں کھیلوں گا ہر سو

کہیں اور بے پر کی جا کر اڑا توچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے

جگنونہیں پیارے بچے نہیں کھیل اچھا

کہ پڑھنے کا ہے اک یہی تو زمانہاگر ابتدا سے رہا شوق اس کا

تو آ جائے گا پھر بہت جلد پڑھنانہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے

بچہپکڑ لوں گا تجھ کو جو اب تو نے چھیڑا

تو آیا بڑا علم والا کہیں کامیں کھیلوں گا کھیلوں گا کھیلوں گا ہر جا

مجھے کھیل سے روکتا ہے پرندہچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے

جگنونہ جاؤں گا ہرگز میں اڑ کر یہاں سے

کرو گے نہ اقرار جب تک زباں سےنصیحت کو آئے گا کوئی کہاں سے

فرشتے نہ اتریں گے اب آسماں سےنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے

بچہیہاں آ کے کن آفتوں میں پھنسا میں

ترے لیکچر میں ہوا مبتلا میںکہیں اور ہی کھاؤں گا اب ہوا میں

تو جاتا نہیں تو نہ جا لے چلا میںچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے

جگنومیں تیرے لئے گو اک آفت نئی ہوں

مگر واقعی رحمت اللہ کی ہوںجہاں میں ترا رہنما ہر گھڑی ہوں

میں جگنو نہیں علم کی روشنی ہوںنہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے

تجھے ایک دن ہے چمکنا زمیں پرہنسی مجھ کو آتی ہے تیری نہیں پر

نظر ہے مری تیرے روئے حسیں پرمیں چمکوں گا اک روز تیری جبیں پر

نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کےابھی سے اگر تو لکھے گا پڑھے گا

تو دنیا میں پروان جلدی چڑھے گایہ کب تک یوں ہی گیڑیاں تو گڑھے گا

بڑھائے گا ہمت تو آگے بڑھے گانہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے

بچہجو تو علم کی روشنی ہے تو آ جا

مرے دل میں میرے جگر میں سما جامجھے پڑھنے لکھنے کا شیدا بنا جا

اگر اور کچھ ہے تو ہٹ جا چلا جاچمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں