7 اشعار

دوام

Dawaam

مجھے آج محسوس یوں ہو رہا ہےکہ میں مر گیا ہوں

مرا نام کچھ بھی ہو میں عام سا آدمیاس سے کچھ فرق پڑتا نہیں

ایک احساس کے مختلف نام ہیںساری دنیا میں جو شخص دنیا سے اٹھا ہے وہ میں ہوں

میں جس نے دیکھا ہے ہر شخص میں خود کو مرتے ہوئےمجھ کو جس طرح چاہو پکارو کہ وہ مرنے والا تو میں ہی ہوں

لوگو شہادت سے بڑھ کر مری موت بے لوث ہےاور کسی کا مرے پاس کچھ بھی نہیں

جب بھی آیا ہوں تم سب میں تم بن کے زندہ رہااور دنیا سے جاتے ہوئے ساتھ صرف اپنا غم لے گیا

غم جو دنیا میں ''میں'' بن کے پھر آئے گا

— شہاب جعفری