10 اشعار

شہر انا میں

Shehr-e-Ana mein

یہ تیز دھوپ یہ کاندھوں پہ جاگتا سورجزمیں بلند ہے اتنی کہ آسماں کی رقیب

وہ روشنی ہے وہ بیداریاں کہ سائے نہ خواببس ایک ہوش بس اک آگہی بس اک احساس

اور ان کے نور سے جلتے بدن پگھلتے بدنبدن ہیں کھولتے سیال آئینے ہر سو

ہر آن بہتے سدا ہیئتیں بدلتے بدندماغ دور سے ان کا نظارہ کرتا ہے

اور ان کے قرب کے اظہار سے سنورتا ہےوہ روشنی ہے کہ از فرد تا بہ فرد تمام

کسی کی شکل نہ صورت کسی کا رنگ نہ روپتمام انفس و آفاق گم ہیں آپس میں

ہیں فرد فرد کی پرچھائیاں بھی دھوپ ہی دھوپسب اپنے علم کا جادوئے سامری لے کر

ہزار آنکھوں سے اک دوسرے کو دیکھتے ہیںرواں دواں ہیں سب اک دوسرے کو دیکھتے ہیں

اور اتنا جان چکے ہیں سب ایک دوسرے کوکچھ اتنی دور نکل آئے ہیں سب اپنے سے

کہ دل کے رشتوں کو اب مانتا نہیں کوئیکسی کو اپنے سوا جانتا نہیں کوئی

— شہاب جعفری