19 اشعار

تسخیر فطرت کے بعد

Taskheer-e-Fitrat Ke Baad

تسخیر فطرت کے بعدہوا اے ہوا

میں ترا ایک انگ ایک لہرا تھاصدیوں ترے ساتھ دشت دامن‌ کوہ صحرا میں

آزاد و سرشار پھرتا رہا ہوںسمندر کی چھاتی پہ صدیوں ترے ساتھ

بے فکر و بے دست چلتا رہا ہوںانوکھی زمینوں طلسمی جزیروں کو دریافت کرتا رہا ہوں

مجھے تو نے فطرت کے بعدصنم خانۂ کائنات آزری کے طلسمات کسے آ کے باہر نکالا

مرے خوف سے کانپتے دل کووہموں میں ہوئے سر کو

سجدے سے تو نے اٹھا کرانہیں آگہی و عمل کی نیا نور بخشا

مجھے خود سے اور خود سے باہر مظاہر سےصدیوں ہم آہنگ ہونا سکھایا

سمندر کے دکھ کو سمجھنے کی خاطرابلتے ہوئے گرم پر شور طوفاں کو ناپا ہے میں نے

بیاباں کی تنہائی کو دور کرنے کی خاطرمیں تپتی ہوئی ریت پر صدیوں پیدل چلا ہوں

بدلتے ہوئے موسموں کا ہر اک راز لینے کو میں نےبہار و خزاں میں درختوں کے سایوں میں ٹھہرا تو بچوں کی سانسیں گنی ہیں

زمانے کا ہر سرد و گرم آزمانے کو صدیوں ہی تک میںپہاڑوں کی برفیلی چوٹی سے

اور کوہ آتش فشاں کے دہانے سے گزر کیا ہوںاور اس پر ابھی جب ناتمامی کا احساس ڈستا رہا

اپنی تکمیل کرنے کی خاطربلندی کی پر نور چوکھٹ کو

پستی کے تاریک غاروں کو چوما ہے میں نےغرض زندگی کے ہر ایک درد سے خود کو انگیز کر کے

ہوا اے ہوامیں کہ تجھ سے بچھڑنے سے پہلے

تری طرح آزاد و سرشار تھااب یہ کس طرح کی منہمک ٹوٹتی زندگی ہے

کہ تو شہر شہر آدمی کی تگ و تاز کی تاب لانے کے قابل نہیںاور میں شہر شہر ایک پتھر سا رستوں میں بے حس پڑا ہوں

تری سست پیمائی اور اپنی بے چارگی کا گلہ کر رہا ہوں

— شہاب جعفری