شاعر

ابھیشک شکلا

Abhishek Shukla

24
منتخب کلام
کلام پڑھیں

تعارف

ابھیشیک شُکلا معاصر اردو غزل کے نمایاں شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 14 ستمبر 1985ء کو غازی پور، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم غازی پور میں حاصل کرنے کے بعد ان کے والد کے تبادلے کے باعث وہ لکھنؤ آگئے، جہاں چھٹی جماعت سے پوسٹ گریجویشن تک تعلیم حاصل کی۔ لکھنؤ کی تہذیبی فضا اور اردو کی شعری روایت نے ان کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، اور بعد میں وہ اسی شہر کی شعری روایت سے گہری وابستگی رکھنے والے شاعر کے طور پر معروف ہوئے۔ابھیشیک شُکلا نے 2004ء کے آس پاس شاعری کا آغاز کیا، تاہم عروض اور غزل کی فنی ساخت سے باقاعدہ واقفیت حاصل کرنے کے بعد ان کی شاعری نے زیادہ پختگی اختیار کی۔ 2011ء کے بعد ان کی غزل گوئی میں تسلسل آیا اور انہوں نے بحر، ردیف اور قافیہ کی پابندی کے ساتھ جدید انسانی احساسات کو غزل کا موضوع بنایا۔ محبت، جدائی، تنہائی، یاد، سفر، وقت، رشتے اور انسانی باطن ان کی شاعری کے نمایاں موضوعات ہیں، جبکہ ان کے اسلوب میں کلاسیکی غزل کی فنی نزاکت، لکھنوی تہذیب کی نفاست اور عصری حسیت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ابھیشیک شُکلا شاعر ہونے کے ساتھ غزل کی فنی روایت کے معلم بھی ہیں اور اردو رسم الخط و شاعری کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ ان کی غزلیں ریختہ سمیت مختلف ادبی پلیٹ فارمز پر محفوظ ہیں اور وہ نئی نسل کی اردو غزل کی اہم آوازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ کلاسیکی غزل کے مضبوط فنی ڈھانچے میں آج کے انسان کے جذبات، سوالات اور تجربات کو جگہ دیتے ہیں؛ اسی امتزاج نے انہیں معاصر اردو غزل کے منظرنامے میں ایک منفرد اور قابلِ توجہ مقام عطا کیا ہے۔

منتخب اشعار

شہر میں روشنیاں گھر میں اجالے کم ہیں

جل اٹھیں آ کہ بہت ہیں یہ حوالے کم ہیں

پورا کلام ‹

در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں

پھر اس کے بعد تجھے سوچیں یہ غضب بھی کریں

پورا کلام ‹
  1. 01 شہر میں روشنیاں گھر میں اجالے کم ہیں Shehar mein roshniyan ghar mein ujale kam hain
  2. 02 در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں Dar-e-khayal bhi kholen siyah shab bhi karen
  3. 03 دعا کے بس کا نہیں بد دعا کے بس کا نہیں Dua ke bas ka nahin bad dua ke bas ka nahin
  4. 04 خاک پر خون کی تحریر سے پہچانے گئے Khak par khoon ki tehreer se pehchane gaye
  5. 05 تجھ سے وابستہ کوئی غم نہی رکھنے والے Tujh se wabasta koi gham nahin rakhne wale
  6. 06 آبروئے شب تیرہ نہیں رکھنے والے Aabroo-e-shab-e-teera nahin rakhne wale